25 دسمبر 2014 - 19:38
افغان فوج کا کنڑ میں آپریشن، 151 طالبان ہلاک

خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق جنرل عبدالحبیب سیدخیلی نے کہا کہ دنگم ضلع میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں 17 غیر ملکی جنگجوؤں کی ہلاکت سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر ملکی مقامی جنگجوؤں کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صوبہ کنڑ کے پولیس چیف کے ترجمان کے مطابق پاکستانی سرحد کے قریب گزشتہ 12 روز سے جاری لڑاکے دوران کم از کم 151 طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق جنرل عبدالحبیب سیدخیلی نے کہا کہ دنگم ضلع میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 100 عسکریت پسند زخمی بھی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی میں پاکستانی طالبان اور لشکر طیبہ کے جنگجوؤں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھڑپوں میں 17 غیر ملکی جنگجوؤں کی ہلاکت سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر ملکی مقامی جنگجوؤں کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنگم سرحد سے بہت قریب ہے اور عسکریت پسندوں کو سرحد عبور کرنے افغانستان آنا بہت آسان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے کاررائیوں کے دوران احتیاط برت رہے ہیں تاکہ سویلین ہلاکتوں کو بچا جا سکے۔ دنگم پاکستان سرحد سے صرف چار کلو میٹر فاصلے پر واقع ہے۔ طالبان نے اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کو مسترد کیا ہے تاہم انہوں نے اپنے تعداد نہیں دی۔

ترجمان نے کہا کہ مقامی افراد سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر کاررائیوں میں حصہ لے رہے ہیں تاہم اس میں پاکستانی فورسز یا کسی دیگر عالمی فورس حصہ نہیں لے رہی۔ خیال رہے کہ یہ کاررائیاں ایک ایسے موقع پر کی جا رہی ہیں، جب گزشتہ ہفتہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں بچوں سمیت تقریباً 150 افراد کو طالبان نے ایک حملے میں نشانہ بنایا۔ بعدازاں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا فوری ہنگامی دورہ کیا جس کے دوران افغان حکام نے پاکستانی طالبان کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی تھی۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ ٹی ٹی پی سربراہ ملا فضل اللہ افغانستان میں چھپا ہوا ہے۔

.......

/169